حیدرآباد 13/دسمبر (ایس او نیوز)غیر قانونی قرار دئے گئے انڈین مجاہدین نامی گروہ کی مبینہ دہشت گرد ی کے معاملات میں این آئی اے کی خصوصی عدالت نے پہلی بار حید رآباد کے دل سکھ نگرمیں ہوئے دوہرے بم دھماکوں کے لئے احمد سدی باپا عرف یاسین بھٹکل اور دیگر چار افراد کو مجرم قرار دیا ہے۔ مگر عدالت کے فیصلے سے ناخوش احمد سدی باپا کے اہل خانہ نے وکیل اور ماہرین سے رائے مشوروں کے بعد انصاف کے لئے ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکٹا نے کا عندیہ دیا ہے۔
خصوصی عدالت نے انڈین پینل کوڈ، آرمس ایکٹ،غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون UAPA کے تحت بھٹکل کے احمدعرف یاسین کے علاوہ اتر پردیش کے اسد اللہ اختر،پاکستان کے ضیاء الرحمن عرف وقاص،بہار کے تحسین اختراور مہاراشٹر ا کے اعجاز شیخ کودہشت گردی کا مجرم گردانا ہے۔اس سازشی معاملے میں ریاض بھٹکل کو کلیدی ملزم بنایا گیا ہے جس کے بارے میں این آئی اے کا کہنا ہے کہ وہ کراچی پاکستان میں پناہ لیے ہوئے ہے اور وہیں سے اپنی سرگرمیاں انجام دے رہا ہے۔
حید رآباد کے دل سکھ نگر میں دوہرا بم دھماکہ 21/فروری 2013کو ہوا تھا۔ اس میں 18افراد ہلاک اور131 لوگ زخمی ہوئے تھے۔ عدالتی کارروائی کا آغاز گزشتہ سال اگست میں ہوا تھا۔عدالت میں ان ملزمین کو مجرم قرار دئے جانے پر بہت پرجوش نظر آرہے این آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل شرد کمار نے کہا کہ:" یہ ہماری ٹیم کی طرف سے ایک بہترین تحقیق و تفتیش کا معاملہ ہے۔ ایک ایک ثبوت کو ہم نے بڑی باریکی سے جانچا اور کیس تیا ر کیا ہے۔انڈین مجاہدین کے ملزموں کو مجرم قرار دئے جانے کا یہ سب سے پہلا معاملہ ہے۔ہم ان کے لئے کڑی سے کڑی سزا کا مطالبہ کریں گے۔"
خصوصی عدالت میں پیش کی گئی چارج شیٹ میں این آئی اے نے دعویٰ کیا ہے کہ انڈین مجاہدین نے عوام میں دہشت پھیلا کر ملک کے خلاف جنگ کرنے کی سازش رچی تھی۔ اسی سازش کے تحت حیدر آباد کے دل سکھ نگر میں بم دھماکے انجام دئے گئے۔ ریاض بھٹکل کی ہدایت پراسداللہ اختر اور وقاص نے منگلورو میں دھماکو اشیا ء چھپانے کے لئے جگہ حاصل کی تھی۔پھر ریاض کی جانب سے ایک اجنبی کی معرفت بھیجا گیا دھماکو مادہ پانے کے بعدوہ دونوں حیدر آباد پہنچے اور تحسین اختر عرف مونوکے ساتھ مل کر سازش پر کام کرنا شروع کیا۔اس دوران ان کا قیام عبداللہ پورمیٹ میں رہا۔
چارج شیٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ان تینوں نے مل کردھماکو اشیاء، پریشر کوکر اور ٹائمر کی مدد سے دو آئی ای ڈی بم بنائے اور دو سائیکلوں میں انہیں فٹ کرکے دل سکھ نگر کے دو مختلف مقامات پر رکھنے کے بعد دھماکے کروائے۔این آئی اے نے چارج شیٹ میں ان ملزموں کو حوالہ اور دیگر ذرائع سے ملنے والی رقم کے بھی ثبوت پیش کیے ہیں۔اس کے علاوہ اس سازش کو انجام دینے کے سلسلے میں احمد عرف یاسین کے مبینہ کردار کے بارے میں بھی این آئی اے نے چارج شیٹ میں تفصیلات بتائی ہیں۔ تحقیقاتی ایجنسی کا کہنا ہے کہ اس سازش کو انجام دینے کے تمام مراحل کو انٹرنیٹ پر بات چیت اور تبادلہئ خیال کے ذریعے عمل میں لایا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اس معاملے میں 440 لوگوں کو گواہ کے طور پر پیش کیا گیا۔251دستاویزات اور ضبط کی گئی300 اشیاء بطور ثبوت عدالت کے سامنے رکھی گئیں۔ اس کے علاوہ سائبر فورنسک شہادتیں بھی پیش کی گئی تھیں۔ فی الحال عدالت نے انہیں مجرم قرار دیا ہے مگر سزا کا فیصلہ 19/ دسمبر کو سنانے کی بات کہی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ عدالت ان ملزموں کومجرم قرار دئے جانے کے بعد کس قسم کی سزا کا اعلان کرتی ہے۔
گھروالوں کا ہائی کورٹ جانے کا فیصلہ : این آئی اے عدالت کا فیصلہ سامنے آنے کے بعد ساحل آن لائن سے فون پرگفتگو کرتے ہوئے احمد سدی باپا کے چاچا یعقوب سدی باپا نے بتایا کہ یاسین کسی بھی بم دھماکوں میں ملوث نہیں ہے اور وہ بالکل بے قصور ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہمیں پہلے سے اس بات کا خدشہ تھا کہ این آئی اے کی عدالت اسی طرح کا فیصلہ سنائے گی، مگر ہم اب قانونی ماہرین کی رائے اور اُن کے مشوروں سے ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکٹائیں گے اور اس بات کو ثابت کریں گے کہ کس طرح احمد کو پھنسانے کی سازش کی گئی ہے۔